باج دار
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - خراج دینے والا، ماتحت یا رعایا۔ 'فرحت الملک نے - ہندوؤں کو اپنا باجدار بنانا چاہا۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٦٢:٤ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'باج' کے ساتھ داشتن مصدر سے مشتق صیغہ امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'باج دار' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩٧ء میں 'تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خراج دینے والا، ماتحت یا رعایا۔ 'فرحت الملک نے - ہندوؤں کو اپنا باجدار بنانا چاہا۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٦٢:٤ )
جنس: مذکر